Darhi Katwanay Waly Shakhs Ki Imamat Ka Shari Hukam

ڈاڑھی کٹوانے والے شخص کی امامت کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حافظ قرآن تقریباً عرصہ چھ سال سے قرب رمضان ڈاڑھی کٹوانا چھوڑ دیتاہے۔اور مسجد میں علماء واحباب کے سامنے بھر پور توبہ کا اظہار کرتاہے۔مگر رمضان کے بعد دوبارہ کٹوانے کا عمل شروع کر دیتاہے۔اس سال پھر ایسے ہی توبہ کی اور عہد کیا کہ میں ڈاڑھی نہیں کٹواؤں گا۔مجھے تراویح مسجد میں پڑھانے دی جائے جب کہ ڈاڑھی ابھی تک مٹھی بھر نہیں ہوئی۔قرآن وسنت کی روشنی میں اس کے پیچھے نماز تراویح پڑھنا اور اسے انتظامیہ مسجد کا مصلیٰ پر کھڑا کرنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الوھّاب
٭حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، ڈاڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹواؤ۔ (صحیح بخاری، ج۲، ص۸۷۵
٭حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مونچھیں کٹواؤ اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کر و۔(صحیح مسلم، ج اص ۱۲۹)۔
ایک عبرت آموز واقعہ:
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شاہِ ایران کے دو قاصد (پیغام پہنچانے والے) آئے ان دونوں کی ڈاڑھیاں مونڈی ہوئی تھیں اور مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کیا اور فرمایا تمہاری ہلاکت ہو تمہیں شکل بگاڑنے کا کس نے حکم دیا ہے؟ وہ بولے کہ ہمیں ہمارے رب یعنی کسریٰ (شاہِ ایران) نے حکم دیا ہے۔ تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے رب نے ڈاڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم فرمایا ہے۔ روایت کے چند الفاظ یہ ہیں:
…… فکرہ النظر الیھما و قال ویلکما من امر کما بھذا قال امرنا ربنا یعنیان کسریٰ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و لکن ربی امرنی باعفاء لحیتی و قص شاربی (البدایۃ و النھایۃ، ج۴، ص۲۶۹، و حیاۃ الصحابۃ، ج۱، ص۱۱۵
عن عبیداللّٰہ بن عتبۃ قال جاء رجل من المجوس الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و حلق لحیتہ و اطال شاربہ فقال لہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما ھذا؟ قال ھذا فی دیننا، قال صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی دیننا ان نجز الشارب و ان نعفی اللحیۃ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ج۶، ص۱۱۰، کتاب الادب، باب ما یؤمر بہ الرجل من اعفاء اللحیہ)۔
ڈاڑھی کی مقدار کے بارہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اﷲ عنہم کا عمل:
٭حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مٹھی بھرسے زائد ڈاڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔(شرح شرعۃ الاسلام از شیخ زادہ ص۱۹۸، جامع ترمذی ج ۲ص۰۵ ۱
٭حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بھی مٹھی سے زائد ڈاڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔ (شعب الایمان للبیھقی،ج۵،ص۲۲
٭حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہما بھی مٹھی سے زائد ڈاڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔(بخاری شریف ج ۲ص۸۷۵، ابوداؤٗد شریف ج۱ ص۳۴۲
٭حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ بھی مٹھی سے زائد ڈاڑھی کو کاٹ دیتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج۸ص ۳۷۵
نیز حضرت حسن رضی اﷲ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم لوط میں ایسی دس عادتیں تھیں جن کی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے، ان میں سے ایک بدعملی ڈاڑھی منڈانا بھی تھا۔ (تفسیر در منثور،ج۵،ص۶۴۴۔ و تفسیر روح المعانی وغیرہ)۔
٭حضرت کعب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ: آخری زمانہ میں ایک قوم ظاہر ہو گی جو ڈاڑھی کو کبوتر کی دُم کی طرح بنائے گی یعنی چھوٹی کرے گی۔ (اتحاف للزبیدی،ج۲،ص۴۲۶
بعض احناف کے ہاں مٹھی بھر سے زائد ڈاڑھی کاٹنا واجب ہے اورترکِ واجب موجب گناہ ہے، اور اکثر کے ہاں سنت ِمؤکدہ ہے۔
و فی فتح الملھم: صرح فی النھایۃ بوجوب قطع ما زاد علی القبضۃ …… و مقتضاہ الاثم بترکہ۱، ص۴۲۱
و فی العالمکیریہ: لا باس ان یقبض علی لحیتہ فان زاد علی قبضۃ منھا شیء جزہ …… و القص سنۃ فیھا وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فان زاد منھا علی قبضۃ قطعہ (تحت کتاب الکراھیۃ فی الباب التاسع عشر، ج۵، ص۳۵۸۔ کتاب الاٰثار، ص۲۰۳، باب حف الشعر من الوجہ)۔
حاصل یہ ہے کہ عامہ کتب اس پر شاہد ہیں کہ قدرِ مسنون قدرِ واجب ڈاڑھی میں مقدار ایک مشت ہے، جب ایک مشت سے زائد ہو جائے تو کتر وا لے۔ (معارف الابرار:۲۱۴) لہٰذا جو لوگ مٹھی سے زائد کاٹنے کو منع کرتے ہیں ان کی رائے شرعاً درست نہیں ہے۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا ایک شخص کو مٹھی بھر سے زائد ڈاڑھی کاٹنے کا حکم:
حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جس کی ڈاڑھی اچھی لمبی ہو گئی تھی (یعنی مٹھی بھر سے زائد تھی)، تو آپ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ایک مٹھی سے جو نیچے ہے کاٹ دے، پھر آپ نے فرمایا: ’’اس طرح کیوں چھوڑ دیتے ہو کہ درندہ کی طرح ہو جاؤ‘‘۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری،ج۲۲،ص۴۷
تنبیہ: آج کل کچھ حنفی علماء و مشائخ میں مٹھی بھر سے زائد ڈاڑھی رکھنے کا رواج ہو رہا ہے جو کہ حنفی مذہب اور جمہور اہلِ سنت کی رائے کے خلاف ہے، ان حضرات کا یہ فعل خلافِ سنت اور گمراہ لوگوں سے مشابہت کی وجہ سے شرعاً ناپسندیدہ ہے، اس لیے اس سے احتراز ضروری ہے۔
مذکورہ روایات سے واضح ہواکہ ڈاڑھی بڑھانا اور مونچھیں کٹوانا حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور مکمل ڈاڑھی کٹوانا اور مونچھیں نہ کٹوانا مجوسیوں (آگ کے پجاریوں) کا عمل ہے اور ڈاڑھی بڑھانے کی حد مٹھی بھرڈاڑھی رکھنا ہے اور اس سے زائد کو کٹوانا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام واہل بیت عظام رضی اﷲ عنہم کا عمل ہے اور محققین اہلسنت لکھتے ہیں: مکمل ڈاڑھی منڈانا ہندوستان کے یہودیوں اور عجم کے مجوسیوں کا فعل ہے اور کچھ رکھ لینا یعنی مٹھی سے کم فیشنی انداز اختیار کرنا یہ مغربی غیر مسلم اور ہیجڑوں کا طریقہ ہے چنا نچہ قرآن وسنت کی روشنی میں تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ ہر مسلمان آدمی کے لئے مٹھی بھر ڈاڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے اس سے کم ڈاڑھی رکھنے والا شخص فاسق مُعْلن (اعلانیہ مجرم) ہے اس کے پیچھے نماز فرض ہو یا تراویح مکروہ تحریمی ہے نیز فاسق واجب الاہانت ہے جب کہ امامت میں اس کی تعظیم ہے اس لیے اس کا امام بنا نا شرعاً ناجا ئز ہے۔
وفی الدر: واما الاخذ منھا وھی دون ذلك کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احدواخذ کلھا فعل یھودالھندومجوس الاعاجم (کتاب لصوم ج۲ص۱۵۵مصری۔ ایضاً فی فتح القدیر، تحت باب الصوم۔ و فی فیض الباری،ج۴،ص۳۸۰، باب اعفاء اللحیٰ۔ و فی فتح الملھم،ج۱،ص۴۲۱
وفی الشامیۃ تحت باب الامامۃ: واما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامر دینہ وبان فی تقدیمہ للا مامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا (جلد ۱، ص۵۳۲، مصری)۔
لہٰذاسوال میں جس عادی مجرم کاذکر ہے اسے اپنے آپ کو منصب امامت کے لئے پیش کرنا یا انتظامیہ مسجد کا اس کو امام بنانا شرعاًجائز نہیں ہے۔جب تک اس کی ڈاڑھی مٹھی بھر نہ ہو جائے۔(احسن الفتاویٰ ج۳ص۲۶۲باب الامامت)۔
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں استاذ مکرم حضرت مولا نا مفتی سیّد عبدالقدوس صاحب ترمذی دامت برکا تہم العالیہ کی تحریر ملا حظہ ہو:
’’ایک مشت سے ڈاڑھی کم کرنا بالا تفاق ناجائز اور حرام ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ اس کو انتظامیہ کا اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں۔ لیکن اگر اس کو امام بنادیا گیا تو ………… تراویح میں اس کی اقتداء کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔اس لئے تراویح اس کے پیچھے ادا نہ کریں۔
قال فی الشامیہ: واما الفاسق فقدعللواکراھۃ تقدیمہ بانہ لا یھتم لامردینہ …… (باب الا مامہ)۔
لہٰذا ایسے شخص کو امام بنانا جائزنہیں ہے اِلایہ کہ وہ سچی توبہ کر لے اور سچی توبہ کی (ظاہری طور پر) یہی علامت ہے کہ ڈاڑھی ایک مشت ہو جائے جب تک ڈاڑھی ایک مشت نہ ہوگی وہ مظنّہ تہمت (بدگمانی کا محل ) ہی رہے گا۔ ادھر جن لوگوں کو توبہ کا علم نہیں ان کو مغالطہ ہو گا وہ یہی سمجھیں گے کہ ڈاڑھی کٹوانے کے باوجود بھی بغیر توبہ کئے یہ شخص [نماز]پڑھا رہا ہے۔ ……اگر چہ شخص مذکور نے ڈاڑھی منڈوانا چھوڑ دیا ہے اور توبہ کر لی ہے ……مگر چونکہ ڈاڑھی ابھی تک مٹھی بھر نہیں ہوئی اس لئے احتمال ہے کہ یہ توبہ صرف تراویح کے لیے ہو نیز اگر یہ احتمال نہ بھی ہو تب بھی عوام کو مغالطہ ہو گا کہ فاسق نماز پڑھا رہا ہے۔……ایسے شخص کو فرائض اور بطور خاص تراویح میں امام نہ بنایا جائے۔……  فقط واللّٰہ اعلم
تصدیق
الجواب بہذا التفصیل صحیح
سید عبدالشکور الترمذی عفی عنہٗ
رئیس جامعہ حقانیہ ساہیوال سرگودھا
احقر سید عبدالقدوس ترمذی غفرلہٗ
جامعہ حقانیہ تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا
۲۲؍رمضان المبارک ۱۴۲۱ھ
(از:امداد السائل مخطوطہ)
……………………………………………………                                                 فقط واللّٰہ الحق وھو یھدی الی الحق
                                                                                                                                حررہٗ العبد محمد اعظم ہاشمی غفرلہٗ الغنی
                                                                                                                                ۱۴؍ شعبان المعظم ۱۴۳۲ھ
نوٹ: اصل فتویٰ پر تصدیقات کے بعد ڈاڑھی کے متعلق عامۃ الناس کے لیے کچھ مفید اضافات شامل کیے گئے ہیں۔نیز ذیل میں تصدیقات کی عبارات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، اصل محفوظ ہیں۔
تصدیقات و تائیدات مفتیانِ عظام پاکستان
(۱)جامعہ اسلامیہ امدادیہ (فیصل آباد)
الجواب صحیح
                                                                                محمد طیب
(۲)دارالعلوم فیصل آباد
صورتِ مسؤلہ میں امامت کے جواز کیلئے توبہ کے ساتھ ڈاڑھی ایک مشت ہونے کو ضروری قرار دینا درست ہے ہمیں اس سے اتفاق ہے۔
                                                                محمد صدیق
(۳)جامعہ مدینۃ العلم (فیصل آباد)
ڈاڑھی کٹوا کر ایک مشت سے کم رکھنے والے حافظِ قرآن کو تراویح کا امام بنانے کے بارے میں مجیب کا جواب صحیح ہے۔
                                                                محمد ندیم عفا اللّٰہ عنہ
(۴)جامعہ عبیدیہ (فیصل آباد)
ڈاڑھی مکمل ہونے تک امام بنانا ناجائز ہے جب مکمل ہو جائے تو امام بن سکتا ہے۔                                                  محمد قاسم عفی عنہ
(۵)جامعہ فاروقِ اعظم (فیصل آباد)
الجواب صحیح
                                                                نذیر احمد
(۶)جامعہ قاسمیہ (فیصل آباد)
۱۔مذکورہ سوال کے جواب سے اتفاق ہے اور جواب صحیح ہے۔ فقط والسلام                                                     ظفر احمد بقلم خود
۲۔چونکہ بار بار تجربہ سے اس کا بعد از رمضان ڈاڑھی کٹانا ثابت ہے اس لیے شخص مذکور کے پیچھے نماز تراویح درست نہیں۔ فقط
                                                                سلیم نواز عفی عنہ
(۷)جامعۃ الحسنین (فیصل آباد)
الجواب صحیح
                                                                احمد علی
(۸)جامعہ عربیہ اشرف المدارس (فیصل آباد)
الجواب صحیح و المجیب مصیب
                                العبد مولوی عبدالحفیظ عفا اللّٰہ عنہ
(۹)جامعہ تعلیم الاسلام (فیصل آباد)
اخی المکرم حضرت مولانا مفتی محمد اعظم ہاشمی مدظلہٗ اور حضرت مولانا مفتی ابن مفتی عبدالقدوس ترمذی صاحب دامت برکاتہم کا مذکورہ بالا فتاویٰ صحیح ہیں یہ عاجز بندہ تصدیق و تصویب کرتا ہے۔
                                                 محمد اسمٰعیل شاھدؔ تونسوی
(۱۰)جامعہ اسلامیہ عربیہ (فیصل آباد)
۱۔بندہ مذکورہ فتویٰ سے متفق ہے۔                               محمد انور
۲۔بندہ مذکورہ تحریر سے متفق ہے۔                             عبدالرحمن
(۱۱)جامعہ عثمانیہ (فیصل آباد)
المجیب مصیبٌ
                                                                مظفر اقبال
(۱۲)دارالافتاء و التحقیق (لاہور)
الجواب صحیح
                                                (ڈاکٹر مفتی)عبدالواحد غفرلہٗ
(۱۳)جامعہ اشرفیہ (لاہور)
ڈاڑھی کٹوا کر ایک مشت سے کم کرنے والے شخص کی امامتِ تراویح کے بارے میں جناب مفتی سید عبدالقدوس ترمذی صاحب کا تحریر کیا ہوا مذکورہ فتویٰ بالکل درست ہے ہمیں اس سے اتفاق ہے۔
                                                ضیا الدین                  محمد زکریا
(۱۴)جامعہ خیرالمدارس(ملتان)
صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص کو مصلیٰ پر کھڑا کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کی ڈاڑھی ایک قبضہ (چار انگل) نہیں ہو جاتی، اگرچہ لاکھ بار توبہ کرے کیونکہ یہ شخص فاسق ہے۔…………
                                                بندہ محمد عبداﷲ عفا اللّٰہ عنہ
(۱۵)جامعہ دارالعلوم کراچی
الجواب صحیح
                                                محمد عبدالمنان عفی عنہ
(۱۶)جامعہ فاروقیہ (کراچی)
الجواب صحیح
                                عامر منیر عفی عنہ                   سمیع اﷲ
(۱۷)جامعۃ العلوم الاسلامیہ (بنوری ٹاؤن کراچی)
الجواب صحیح
عزیز محمود دین پوری                   محمد شفیق عارف
ابوبکرسعید الرحمن                     شعیب عظیم
(۱۸)جامعۃ الرشید(کراچی)
الجواب صحیح
                                                (مفتی)محمد عفا اللّٰہ عنہ
(۱۹)دارالعلوم کبیروالا(خانیوال)
الجواب و منہ الصدق و الصواب      امامت کی شرائط میں ایک شرط متقی پرہیزگار ہونا ہے جبکہ ڈاڑھی منڈا خصوصاً بار بار وعدہ کر کے خلاف ورزی کرنے والا فاسق مجاہر ہے۔ ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ جب تک حقیقی صلاح کے آثار واضح نہ ہوں اس وقت تک منصب امامت کے لائق نہ ہو گا۔                  حامد حسن
(۲۰)جامعہ فریدیہ (اسلام آباد)
جواب میں بیان کیا گیا حکم درست ہے۔
                                                عبدالنور عفا اللّٰہ عنہ

……٭……

No comments:

Post a Comment